بریکنگ نیوز

حکومت کی افواج و عدلیہ کو (ن) لیگ سے لڑانے کی حکمت عملی ہے، احسن اقبال

نارووال :مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کی حکمت عملی ہے کہ افواجِ پاکستان اور عدلیہ کو مسلم لیگ (ن) سے لڑایا جائے۔نارووال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے اے پی سی کا انعقاد ہوا ہے حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، حکومتی ترجمان جیسے بیانات سے مسخرہ پن بھی نہیں کیا جا سکتا، جس ملک میں غداری کے سرٹیفکیٹ ایسے بانٹے جائیں اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، یہ جنگ فوج یا عدلیہ کے خلاف ہونے کا حکومتی بیانیہ عوام کو دھوکا دینے جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران احمد نیازی جواب دیں کہ ان سے حکومت کیوں نہیں چل رہی؟ ناکامیوں کا جواب دینے کے بجائے
عمران خان کا ایک ہی موقف ہے این آر او نہیں دوں گا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں مڈل کلاس ختم ہو گئی ہے، ہمارے دور میں متوسط طبقہ غربت سے نکل رہا تھا، جب سے یہ آئے ہیں غریب مزید بد حال ہو گیا ۔انہوں نے کہا کہ تم اپنا این آر او اپنے پاس رکھو، اپنے وزیروں، مشیروں کو دو، کیا بی آر ٹی کا جواب ہے ان کے پاس؟ نہ تم این آر او دے سکتے ہو، نہ کوئی مانگ رہا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ غریب تم سے روٹی مانگ رہا ہے، اسے روٹی دو، ان کو نواز شریف فوبیا ہو گیا ہے، کابینہ میں عوامی مسائل کے حل کی بجائے نواز شریف ڈسکس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا کر آزاد نہیں کرایا جا سکتا، غریب کو ٹویٹر ٹرینڈ بنا دینے سے روٹی نہیں ملے گی، انہوں نے سی پیک کو پوری دنیا میں متنازع بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مسلم لیگ کی لڑائی فوج کیساتھ ہے تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم ملک کا سیاسی گلدستہ ہے، پاکستان کے وقار کی علامت ہے، یہ جادو منتر کی حکومت ہے، 2018 کے جادو منتر نے عوام کا سکون چھین لیا۔ا نہوں نے کہا کہ ہم سب متفق ہیں کہ اس نالائق حکومت کو گھر بھیجا جائے، حکومتی وزیر، مشیر غداری کے سرٹیفکیٹ دینا بند کریں، چور وہ ہے جو عوام کو غریب کرتا ہے۔

About admin

Check Also

توشہ خانہ ریفرنس

بشیر میمن کے انکشافات کے بعد احتساب کی اصلی صورتحال سامنے آگئی،نواز شریف

 لندن:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *